Translate


 

سرنگ لرز رہی تھی۔
جیسے زمین کے اندر کوئی سویا ہوا دیو کروٹ لے رہا ہو۔

اذان اور زریاب دونوں گھٹنوں کے بل گر گئے،
دھول ہر طرف اُڑ رہی تھی،
اور سامنے وہی سایہ پھیل کر دو حصّوں میں بٹنے لگا تھا۔

ایک حصہ دیوار میں سمٹ گیا،
اور دوسرا حصہ لمبا ہو کر ان دونوں کے سامنے معلق ہو گیا۔

اس کے چہرے پر اب بھی کچھ نہ تھا—
بس خلا جیسی گہری سیاہی۔

مگر اس کی آواز…

وہ سیدھی دل کے اندر اترتی تھی۔

“دروازہ تب ہی کھلے گا…
جب تم وہ یاد واپس لاؤ گے…
جسے تم نے خود سے چھپایا تھا…”

زریاب نے مٹھیاں بھینچ لیں۔
وہ جان چکا تھا کہ یہ سفر صرف باہر کا نہیں،
اندر کا بھی ہے۔

■ دیوار پر ابھرتی ہوئی بھولی ہوئی یاد

دیوار لرز کر پھٹی،
اور اس کے اندر سے ایک منظر تیار ہونے لگا—
جیسے کسی نے ہوا میں تصویریں کھینچ دی ہوں۔

ایک چھوٹا کمرہ۔
میز۔
ٹوٹا ہوا کھلونا۔
اور ایک بچہ جو کھڑکی کے پاس بیٹھا رو رہا تھا۔

اذان کا دل دھڑکنا بھول گیا۔

“یہ… یہ میں ہوں؟”
اس کی آواز کپکی۔

زریاب نے خاموشی سے دیکھا۔

وہ منظر حقیقی تھا۔
اذان کی وہ یاد… جو اس نے کبھی کسی کو نہیں بتائی تھی۔

چھوٹا اذان کھلونے کی طرف ہاتھ بڑھا رہا تھا،
مگر کھلونا ٹوٹ چکا تھا—
اور کھلونے کے ساتھ اس کا یقین بھی۔

پیچھے سے کسی بڑے کی آواز آئی،
سخت، تیز، زخمی کرنے والی:

“تم سے کچھ نہیں ہوتا!
ہمیشہ چیزیں برباد کر دیتے ہو!”

چھوٹا اذان سمٹ کر بیٹھ گیا۔
پھر دھیرے دھیرے…
بولنا چھوڑ دیا۔

سرنگ میں موجود اذان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

“میں نے… یہ یاد بھلا دی تھی…”
اس کی آواز بھاری تھی۔

سایہ آگے بڑھا۔
اس کی انگلی اذان کے سینے کی طرف اشارہ کرنے لگی۔

“تم نے خوف کو بند کر دیا…
اس دن سے تم نے اپنی آواز چھپا لی…
اور تب سے دروازے کا ایک حصہ ٹوٹ گیا…”

زریاب نے فوراً اذان کا ہاتھ پکڑا۔

“اذان… تم نے تب بولنا چھوڑا تھا،
لیکن وہ تمہاری غلطی نہیں تھی۔
وہ ایک بچے کا درد تھا… خاموشی نہیں!”

اذان نے سر اٹھایا۔
اب اس کے چہرے پر خوف کے بجائے سمجھ آنے لگی تھی۔

“میں… میں نے خود کو اس ایک دن کی بنیاد پر کمزور سمجھا…
لیکن شاید میں کمزور نہیں تھا—
میں صرف اکیلا تھا۔”

دیواری منظر مدھم پڑنے لگا،
پھر ریت کی طرح بہہ کر ختم ہو گیا۔

■ سایہ اب اکیلا نہیں رہا

اچانک سایے کی شکل بدلنے لگی۔
وہ پہلے سے چھوٹا ہونے لگا—
جیسے اس کی طاقت کم ہو رہی ہو۔

پھر وہ دو حصوں میں تقسیم ہو کر
بچوں جیسے دو چھوٹے سائے بن گیا۔

دونوں کی آوازیں ایک ساتھ گونجیں:

“تم نے ہمیں واپس بلا لیا…
تمہاری وہ آواز…
جو چھپ گئی تھی…”

اذان کی آنکھیں پھیل گئیں۔
یہ سایہ اس کا دشمن نہیں تھا—
یہ اس کی اپنی کھوئی ہوئی ہمت تھی۔

زریاب نے حیرت سے کہا،
“یہ تمہارے اندر کے وہ حصے تھے… جو ٹوٹ کر بکھر گئے تھے۔”

سائے ایک دوسرے میں مل گئے،
اور پھر بڑے سایے میں تبدیل ہو کر
دروازے کے نقش پر ہاتھ رکھ دیا۔

دروازے کا ٹوٹا ہوا حصہ…
خود بخود جڑنے لگا۔

روشنی پھوٹنے لگی—
چمکتی، گرم، دل کو چھونے والی۔

سرنگ کی زمین تھم گئی۔
خاموشی دوبارہ لوٹ آئی۔

■ نیا دروازہ… نئی آزمائش

دروازہ مکمل ہو چکا تھا،
مگر وہ اب بھی بند تھا۔

سایہ دھیرے سے بولا:

“ایک خوف… واپس مل گیا۔
مگر دروازہ تب کھلے گا…
جب دونوں اپنے اندر کے راز کھولیں گے…”

یہ کہتے ہی سایہ دھند میں بدل کر غائب ہو گیا۔

اذان نے گہری سانس لی،
“میری باری ہو گئی… زریاب… اب تمہاری باری ہے۔”

زریاب ساکت کھڑا رہا۔
اس کی آنکھوں میں عجیب سا ڈر ابھر رہا تھا۔

اذان نے پہلی بار محسوس کیا—
زریاب عام طور پر پُر اعتماد رہتا تھا…
مگر اب وہ لرز رہا تھا۔

“زریاب… تم کس چیز سے ڈرتے ہو؟”

زریاب نے نظریں نیچی کر لیں۔

اس کی آواز کانپ رہی تھی۔

“اذان…
میرا خوف…
تمہارے خوف سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔”

یہ کہتے ہوئے اس کے پیچھے…
اندھیرے میں ہلچل مچنے لگی۔

کسی بہت بڑے، بہت بھاری سائے نے
اپنا سر اٹھایا۔

اذان کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“یہ… یہ کیا ہے؟
زریاب… یہ تمہاری یاد ہے؟!”

زریاب نے سر اٹھایا،
اور اس کی آنکھوں میں ایک ایسا خوف تھا
جو اذان نے کبھی اس میں نہیں دیکھا تھا۔

“ہاں…
یہ میری وہ یاد ہے…
جسے میں نے ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا تھا…”

اندھیرہ گہرا ہوا—
ایک نئی آزمائش سامنے تھی۔

اور دروازہ انتظار کر رہا تھا۔

Previous Post Next Post