Translate

 

 سرنگ میں روشنی پھر مدھم ہونے لگی تھی۔
اذان اور زریاب دائرے سے گزرتے ہوئے اب ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے تھے، جہاں فضا میں ہلکی سی نمی، پرانے خوف اور بھولی ہوئی یادوں کی بو پھیلی ہوئی تھی۔

یہ سرنگ… اب سرنگ نہیں لگ رہی تھی۔
یہ کسی کی یادوں کی گہرائی، کسی کے اندر کے تاریک کمرے جیسی لگنے لگی تھی۔

دونوں سست قدموں سے آگے بڑھ رہے تھے۔

ایک عجیب سی خاموشی تھی—
ایسی خاموشی جو کانوں میں چبھتی ہے۔

پھر اچانک—

سرررر… سرررر…

کوئی چیز پاس سے گزری۔
ہوا کی معمولی سی ہلچل بھی نہیں تھی، پھر بھی کوئی سایہ ان کے اطراف سے پھسل کر گزرا۔

زریاب فوراً سیدھا کھڑا ہو گیا،
“اذان… تم نے محسوس کیا؟”

اذان نے آہستہ سر ہلایا،
“ہاں… کوئی ہے یہاں۔ ہم دونوں کے سائے تو بس دو ہیں… لیکن ابھی… تین تھے۔”

دونوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

وہاں گہری تاریکی تھی—
ایسی تاریکی جس میں آنکھ ڈالی جائے تو لگے کہ وہ ہمیں اندر کھینچ رہی ہے۔

■ سامنے ابھرتی ہوئی سرسراہٹ

پھر اچانک اندھیرے کے اندر سے کسی نے پکارا—
ایک دھیمی، ریتلی، خراش بھری آواز:

“اذان…”

اذان کا دل سینے میں اچھل گیا۔
زریاب بھی چونک کر پلٹا۔

“یہ آواز… میری نہیں تھی… تمہاری بھی نہیں تھی…”
اذان نے بمشکل کہا۔

زریاب نے سرد سانس لی،
“اور یہاں کوئی تیسرا بھی نہیں… کم از کم نظر نہیں آتا۔”

اس سے پہلے کہ دونوں کچھ سمجھتے،
سرنگ کی دیوار ایک جگہ سے کالی دھند بن کر ہلنے لگی۔

پھر اس دھند نے آہستہ آہستہ ایک شکل اختیار کی—
لمبی، لاغر، سانپ کی طرح لچکدار، مگر انسانی سایے کی مانند۔

چہرہ خالی۔
صرف گہرا سیاہ دھبہ۔

مگر جیسے ہی اس نے سر اٹھایا…
وہ دونوں کے نام باری باری لینے لگا۔

“زریاب…”
“اذان…”

دونوں ایک قدم پیچھے ہٹ گئے۔

“یہ… یہ ہمیں کیسے جانتا ہے؟”
اذان نے بمشکل پوچھا۔

زریاب نے جواب دیا،
“یہ… ہماری آوازوں کا سایہ ہے۔ شاید وہ حصہ… جو ہم نے خوف میں چھوڑ دیا تھا۔”

■ سایہ جو جذبات کھینچ لیتا ہے

سایہ آگے بڑھا—
لیکن اس کا قدم زمین پر نہیں پڑتا تھا۔
جیسے وہ ہوا میں تیرتا ہو۔

پھر اس نے ہاتھ بڑھایا۔

ایک لمبی انگلی سیدھی اذان کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔

اچانک اذان کے دائیں بازو میں ٹھنڈ دوڑ گئی—
اتنی تیز کہ چمڑی سُن ہو گئی۔

زریاب نے گھبرا کر اذان کا ہاتھ پکڑا،
“یہ تم سے کچھ چھین رہا ہے!”

اذان نے خود بھی محسوس کر لیا تھا—
اس کی سانس بھاری ہونے لگی…
جیسے کسی نے اس سے اس کا حوصلہ کھینچ لیا ہو۔

“زریاب… مجھے اپنے اندر… کمزور محسوس ہو رہا ہے…”

زریاب آگے بڑھا،
“رکو! اسے دور ہونا ہوگا!”

مگر سایہ اوپر اٹھا،
پھر نیچے جھکا،
اور دیوار پر بنے نقش کو چھوؤا۔

ایک دم اندھیرے میں تصویر ابھر آئی۔

یہ ایک دروازہ تھا—
بالکل وہی جو جنگل میں کھڑا تھا،
لیکن یہاں وہ ٹوٹا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔

سایہ خالی آواز میں بولا:

“دروازہ مکمل نہیں…
جب تک تم اپنے خوف واپس نہ لو…”

پھر ایک جھٹکے سے پوری سرنگ لرز اٹھی۔

اذان اپنے گھٹنوں کے بل جھک گیا—
سانس پھول گئی۔
دل میں عجیب سا خلا پیدا ہوا۔

زریاب نے فوراً اسے تھاما۔

“اذان! سنبھلو… ہم نے اس سے زیادہ مشکل چیزوں کا سامنا کیا ہے!”

اذان نے کانپتے ہوئے کہا،
“یہ… میری طاقت نہیں لے رہا…
یہ میرا یقین لے رہا ہے…”

■ خوف کا مقابلہ — پہلی روشنی

زریاب نے اچانک کچھ کیا—
بہت غیر متوقع۔

اس نے زور سے چیخ کر کہا:
“رکو!”

سایہ جم گیا۔

زریاب نے گہری سانس لی اور سرد لہجے میں بولا،

“ہم تم سے نہیں ڈرتے۔
اگر تم ہمارے چھوڑے ہوئے خوف ہو…
تو سن لو—
ہم انہیں دوبارہ اپنا حصہ بنانے آئے ہیں،
نہ کہ ان سے بھاگنے!”

سایہ چند لمحے خاموش رہا،
پھر اس کی کالی شکل ہلنے لگی،
ڈگمگانے لگی…

اور پہلی بار—
سایہ کمزور پڑتا محسوس ہوا۔

اذان نے بمشکل سر اٹھایا،
اس کی آنکھوں میں روشنی جھلملانے لگی۔

“یہ سچ ہے…”
اس نے تھکی آواز میں کہا۔
“ڈرانا اس کی طاقت ہے… لیکن اگر ہم ڈریں ہی نہ…؟”

زریاب نے مضبوط لہجے میں کہا،
“ہاں! اسے کمزور کرنے کا یہی طریقہ ہے!”

دونوں سیدھے کھڑے ہو گئے۔

سایہ اب پیچھے ہٹنے لگا تھا—
جیسے اس کی جڑیں ٹوٹ رہی ہوں۔

■ سایہ کا آخری حملہ

لیکن اچانک—

سسسسسش—!!

سایہ پوری رفتار سے ان دونوں پر جھپٹا۔
اتنا تیز کہ آنکھ جھپکنے میں بھی نہ آئے۔

دونوں نے ایک دم آنکھیں بند کیں—

مگر…

دھڑاممم—!!

سایہ دیوار سے ٹکرا گیا۔

دیوار میں ایک روشن دائرہ چمک اٹھا تھا—
بالکل پہلے والے دائرے کی طرح۔

روشنی نے سایہ کو پیچھے دھکیل دیا۔
وہ مڑتا رہا، بل کھاتا رہا،
اور پھر آہستہ آہستہ تحلیل ہونے لگا۔

پہلے اس کی ٹانگیں،
پھر دھڑ،
پھر سر،
اور آخر میں وہ آواز…
جو نام لے رہی تھی،
دھند میں گم ہو گئی۔

سرنگ میں پھر خاموشی چھا گئی۔

اذان نے گہری سانس لی،
“یہ… ہمارا خوف تھا… لیکن ہم نے اسے شکست دی۔”

زریاب نے سر ہلایا،
“اور شاید یہی… اگلے دروازے کی چابی تھی۔”

■ سفر جاری — لیکن آگے کیا ہے؟

جیسے ہی سایہ ختم ہوا،
سرنگ کے آخر میں ایک نئی روشنی ظاہر ہوئی۔

ایک دروازہ—
اس بار مکمل، روشن،
جیسے کہہ رہا ہو:

“اگلے مرحلے میں خوش آمدید…”

اذان اور زریاب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
چہرے تھکے ہوئے تھے،
مگر دل مضبوط تھے۔

“تیار ہو؟” زریاب نے پوچھا۔

اذان مسکرایا،
“اب تو لگتا ہے… ہم ہر چیز کا سامنا کر سکتے ہیں۔”

دونوں روشنی کی طرف چل پڑے—
نئے رازوں، نئی آزمائشوں
اور نئی آوازوں کی طرف۔

سفر ابھی ختم نہیں ہوا…
یہ تو آغاز تھا۔
Previous Post Next Post