Translate



 رات ابھی بھی گہری تھی، مگر جنگل کے اندر ہوا میں ایک عجیب سا وزن محسوس ہو رہا تھا—

جیسے پوری فضا اُن دونوں کے اگلے قدم کا انتظار کر رہی ہو۔

اذان اور زریاب خاموشی سے کھڑے تھے۔
وہ شفاف دائرہ جو ابھی چند لمحے پہلے ان کے اندرونی سچ دکھا چکا تھا… اب پوری طرح مدھم ہو چکا تھا۔

لیکن ان دونوں کے دل میں جو طوفان اٹھا تھا، وہ ابھی بھی پوری شدت سے چل رہا تھا۔

“زریاب…” اذان نے دھیمی آواز میں کہا، “جو کچھ ہم نے دیکھا… اسے نظرانداز نہیں کر سکتے۔”

زریاب نے آہستہ آہستہ سانس لی، “ہاں… مگر میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اگلا قدم کیا ہے۔”

اسی لمحے ہوا کی ایک تیز لہر درختوں کے درمیان سے گزری—
مگر اس لہر کے ساتھ ایک ہی چیز تھی:

ایک فاصلہ، دور… دھیمی سی… ٹک ٹک۔
جیسے کوئی لکڑی کا دروازہ ہولے ہولے ہل رہا ہو۔

دونوں ٹھٹھک گئے۔

ٹک… ٹک… ٹک…

آواز سیدھی جنگل کی گہرائی کے اندر سے آ رہی تھی۔

اذان نے آہستہ کہا، “پہلے کبھی ایسی آواز نہیں آئی…”

زریاب نے گردن اٹھا کر سنا، “یہ آواز… بلانے والی ہے۔ جیسے کہہ رہی ہو—ادھر آؤ۔”

اور واقعی ایسا ہی تھا۔
آواز کا ہر ٹک اُن کے قدم خود بخود اسی سمت بڑھاتا جا رہا تھا۔

■ جنگل کا وہ حصہ، جہاں روشنی بھی جانے سے ڈرتی ہے

جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہے تھے، درختوں کا رنگ بدلنے لگا—
سبز سے گہرے نیلے میں، پھر مکمل سیاہ میں۔

زمین خشک اور سخت ہو گئی۔
جیسے یہاں برسوں سے کسی نے قدم نہ رکھا ہو۔

ٹک… ٹک… ٹک…

آواز اب قریب تھی، مگر دکھائی کچھ نہیں دے رہا تھا۔

پھر اچانک دونوں کے سامنے جنگل ختم ہو گیا—
اور ایک کھلا ہوا میدان نظر آیا۔
مگر میدان کے بیچوں بیچ وہ چیز کھڑی تھی جسے دیکھ کر دونوں کی سانس رُک گئی۔

■ خاموش دروازہ

وہ ایک بےحد اونچا، لکڑی کا دروازہ تھا۔
نہ اس کے ساتھ کوئی دیوار تھی، نہ کوئی عمارت—
صرف ایک تنہا دروازہ، جو ہوا کے بغیر خود بخود حرکت کرتا تھا۔

ٹک… ٹک…

اس کی ہلکی ہلکی جنبش سے پیدا ہونے والی آواز ہی انہیں یہاں لائی تھی۔

دروازے پر نقش و نگار کندہ تھے—
کہیں چاند، کہیں سورج، کہیں آنکھ جیسی شکلیں۔
مگر سب سے عجیب بات:

دروازے کے عین درمیان ایک جگہ خالی تھی…
بالکل وہی شکل جو اذان کے پاس موجود کرسٹل سے ملتی تھی۔

اذان نے بےاختیار کرسٹل نکالا۔
جیسے ہی کرسٹل باہر آیا، دروازہ تھوڑا سا مزید کھلنے لگا۔

زریاب نے فوراً ہاتھ آگے بڑھایا، “رکو! ہو سکتا ہے یہ خطرہ ہو—”

اذان نے نظریں دروازے پر گاڑتے ہوئے کہا،
“یا ہو سکتا ہے… یہی وہ راستہ ہو جس کا وعدہ آوازوں نے کیا تھا۔”

ہوا میں اچانک ایک سرگوشی ابھری—
دھوئیں کی طرح پھیلتی ہوئی، دھیمی مگر تیز:

“سفر ادھورا ہے…
دروازے کے پار وہ سچ ہے
جو تم سے چھینا گیا تھا…”

زریاب نے ٹھہر کر اذان کی طرف دیکھا،
“ہم واپس بھی جا سکتے ہیں۔ یہ سفر بہت آگے جا رہا ہے…”

اذان نے زریاب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا، “ہم یہاں تک آئے ہیں… اب پیچھے نہیں جا سکتے۔”

■ دروازے کا کھلنا

اذان نے کرسٹل آہستہ سے دروازے کے خالی خانے میں رکھا۔
جیسے ہی کرسٹل جگہ پر جما:

دھڑامممم—!!

دروازہ ایک بھاری جھٹکے سے پوری طرح کھل گیا۔

اندر گہرا اندھیرا تھا—
اتنا کہ روشنی بھی نگل لی جائے۔

مگر کچھ لمحوں بعد اس اندھیرے سے نرم روشنی نکلنے لگی،
جیسے اندر کوئی لمبی سرنگ ہو جس کے آخر میں چمکتا ہوا نقطہ موجود ہو۔

زریاب نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا،
“ہمیں… اندر جانا پڑے گا، ہے نا؟”

اذان نے بس ایک سر ہلا کر قدم آگے بڑھا دیا۔
زریاب نے ایک لمحے کا وقفہ لیا، پھر پیچھے رہنا اسے گوارہ نہ ہوا۔

دونوں دروازے کے اندر داخل ہوگئے۔

■ سیاہ سرنگ — جہاں یادیں چھاؤں بن کر ساتھ چلتی ہیں

اندر داخل ہوتے ہی عجیب سی ٹھنڈ بدن میں دوڑ گئی۔
سرنگ کے اندر دیواریں دھند سے بنی لگتی تھیں،
جیسے ہلکی سی روشنی انہیں زندہ رکھے ہوئے ہو۔

چلتے چلتے اذان نے محسوس کیا کہ دیواروں پر شکلیں بن رہی ہیں—
آوازوں کی شکلیں۔

کسی جگہ ہنسی،
کسی جگہ چیخ،
کسی جگہ بچوں کی گنگناہٹ۔

دیواریں جیسے باتیں کر رہی تھیں۔
ہر آواز کسی زخم، کسی بھید، کسی گواہی کی طرح ابھر رہی تھی۔

پھر دیواروں میں سے ایک شکل اچانک واضح ہوئی۔

ایک چھوٹے بچے کی۔
جو بیٹھا ہوا رو رہا تھا۔
اس کی ہچکیوں کی آواز سرنگ میں گونج رہی تھی—
درد اتنا گہرا کہ اذان بے اختیار رک گیا۔

“یہ… میں ہوں…” اذان نے تھرتھراتی آواز میں کہا۔
“یہ وہ وقت تھا… جب میں نے خود کو کمزور سمجھ کر چپ کر لیا تھا۔ جب میں نے اپنی آواز… خود ہی کھو دی تھی…”

زریاب نے آگے بڑھ کر اذان کا کندھا تھاما،
“تو اسے دوبارہ اپنے اندر آنے دو۔
ہم اسی لیے تو یہاں آئے ہیں۔”

اذان نے آنکھیں بند کر کے بچے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
بچہ آہستہ آہستہ روشنی میں بدلنے لگا،
پھر وہ روشنی سیدھی اذان کے سینے میں جذب ہو گئی۔

اذان کا جسم ایک دم گرم ہوا—
جیسے کوئی بھاری دروازہ اس کے اندر کھل گیا ہو۔

■ سرنگ کا دوسرا منظر — زریاب کی خاموش پکار

اب زریاب کے قدم بے چین ہو گئے تھے۔
اس نے محسوس کیا کہ دیوار پر اب اس کی اپنی تصویر ابھر رہی ہے۔

ایک نوجوان لڑکا—
اکیلا بیٹھا ہوا،
گھٹن زدہ کمرے میں،
جیسے کسی نے اس کی بات کبھی سنی ہی نہ ہو۔

زریاب کے ہونٹ کانپنے لگے۔

“یہ… وہ دن ہے جب میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میری آواز کی کوئی قیمت نہیں…
اس لیے میں نے اسے دل میں قید کر لیا تھا۔”

اذان نے آگے بڑھ کر کہا،
“اب اسے آزاد کرنے کا وقت آ گیا ہے۔”

زریاب نے دھیرے سے ہاتھ اس تصویر کی طرف بڑھایا۔
صحبت، غصہ، دکھ، سب کچھ روشنی بن کر اس کے اندر بہہ گیا۔

لمحے بھر میں زریاب کی آنکھوں میں عجیب سا سکون ابھرا—
جیسے برسوں کا وزن اتار دیا گیا ہو۔

■ سرنگ کا خاتمہ — اور فیصلہ

سرنگ کے آخر میں دونوں نے دیکھا:

ایک چمکتی ہوئی گول جگہ تھی۔
جیسے ایک نیا دروازہ، مگر یہ دروازہ روشنی کا تھا—
زندہ، دھڑکتا ہوا، سانس لیتا ہوا۔

اس کے اوپر لکھا تھا:

“جو یہاں سے گزرے گا
وہ اپنی آواز ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔”

اذان نے زریاب کی طرف دیکھا،
“ہم دونوں ایک قدم دور ہیں…”

زریاب نے لمبی سانس لی،
“اور اس کے بعد… جو بھی ملے گا، وہ ہمارا اصل سفر ہوگا۔”

روشنی کا دروازہ ہلنے لگا—
جیسے انہیں جلدی کرنے کا اشارہ دے رہا ہو۔

دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا۔

اور ایک ساتھ…

دروازے میں داخل ہو گئے۔

روشن دھماکا ہوا—
جیسے پوری دنیا پل بھر میں بکھر گئی ہو۔

پھر…

اندھیرا۔
گہرا، خاموش، مکمل اندھیرا۔

کہانی یہاں رکتی ہے—
اور اگلی قسط میں وہ سب ظاہر ہو گا
جس نے ان کی آوازیں چھینی…
اور جس سے یہ سارا سفر شروع ہوا۔

Previous Post Next Post