Translate



 دروازہ بند ہوتے ہی آگے کا راستہ آہستہ آہستہ روشن ہونے لگا۔

علی، ماہم اور رفاہ ایک عجیب و غریب جگہ کھڑے تھے—
زمین شیشے کی تھی، آسمان کے بجائے اوپر رنگ برنگی لہریں تیر رہی تھیں۔
ہر لہر سے کوئی نہ کوئی آواز نکل رہی تھی—
کہیں ہنسی، کہیں گانا، کہیں بچے کی رونے کی آواز، کہیں خوشی کا نعرہ۔

ماہم حیران رہ گئی:
"یہ… آوازوں کی دنیا ہے؟ یہاں آوازیں آسمان میں تیر رہی ہیں!"

رفاہ نے ہاتھ بڑھایا، اور جیسے ہی اس نے ایک ہنسی کی آواز کو چھوا—
وہ آواز پھول کی طرح کھل گئی!
نرم، گرم… جیسے خوشی کو ہاتھ سے پکڑ لیا ہو۔

لیکن اچانک…
ایک تاریک سایہ ان کے اوپر سے گزرا۔
سایہ گزرتے ہی—
جتنی آوازیں تھیں، سب جم کر رہ گئیں۔

ہنسی، گانا، ہوا کی ہلچل…! سب کچھ
جیسے کسی نے زندگی کا Pause بٹن دبا دیا ہو۔

علی نے کانپ کر کہا:
"یہ کیا ہوا؟ آوازیں… رک کیوں گئی ہیں؟"

پھر دور سے ایک خوفناک آواز گونجی—
بھاری، گہری… جیسے کسی غار کے اندر سے آ رہی ہو:

"آخر کار… محافظ آ ہی گئے۔"

تینوں بچوں نے گھبرا کر ایک دوسرے کو پکڑ لیا۔
کالے بادلوں میں سے ایک شکل نمودار ہوئی—
ایک لمبا، آدھا دھواں، آدھا انسان جیسا سایہ۔
اس کی آنکھیں کوئلے کی طرح جلتی تھیں۔

ماہم نے کپکپاتے ہوئے کہا:
"یہ کون ہے…؟"

سایہ آگے بڑھا۔
اس کی آواز گھوم کر واپس آتی تھی، جیسے ہزاروں بار گونج کر ٹوٹی ہو:

"میں ہوں— خاموش خان۔
آوازوں کا قید خانہ۔
جو چاہے، جس کی چاہے… آواز چھین لیتا ہوں۔"

رفاہ چیخ پڑا:
"تم نے پرندے کی آواز بھی چھین لی تھی!"

سایہ ہنس پڑا—
اس کی ہنسی کانچ کی طرح چبھنے والی تھی۔

"پرندہ تو صرف شروعات تھی۔
اب میں اس دنیا کی ہر آواز قید کرنے والا ہوں…
تاکہ دنیا ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جائے!"

علی نے قدم آگے بڑھایا:
"ہم تمہیں یہ کرنے نہیں دیں گے!"

خاموش خان پاس آ کر بولا:
"تم تین چھوٹے محافظ؟
تم تو اپنی ہی آواز تک نہیں بچا سکتے!"

یہ کہہ کر وہ ماہم کی طرف جھپٹا—
اور اس کی آواز کھینچنے لگا۔
ماہم کی آنکھوں میں خوف بھر گیا۔
وہ چیخنا چاہتی تھی… مگر آواز نہیں نکل رہی تھی۔

علی نے فوراً اپنی جیب سے وہ چمکتا ہوا سفر پتھر نکالا جو انہوں نے سنہرے درخت کے پاس پایا تھا۔

پتھر نے زور سے روشنی پھینکی—

 !چٹاخ

خاموش خان پیچھے ہٹ گیا۔
ماہم کی آواز واپس آ گئی۔

رفاہ نے حیرت سے کہا:
"یعنی یہ پتھر… ہماری آوازوں کی حفاظت کرتا ہے!"

علی نے پتھر اوپر اٹھا کر کہا:
"جب تک یہ ہمارے پاس ہے، ہم تم سے نہیں ڈرتے!"

خاموش خان نے غصے سے دھاڑ کر کہا:

!پھر آؤ… اگر ہمت ہے
 !آوازوں کی جنگ ابھی شروع ہوئی ہے"

یہ کہہ کر وہ دھوئیں کی طرح غائب ہو گیا—
اور دور دور تک آسمان سے آوازیں دوبارہ ٹوٹنے لگیں۔

تینوں بچوں نے ایک ساتھ کہا:

!ہمیں اس دنیا کو بچانا ہے۔ ہر حال میں"

اور یوں ان کی اصل جنگ شروع ہوئی—

خاموش خان کے خلاف… آوازوں کی بقا کے لیے۔

Previous Post Next Post