Translate



 علی، ماہم اور رفاہ جنگل کی گہرائی میں چلتے جا رہے تھے۔

ہوا رکی ہوئی تھی… پیڑ جیسے سانس روک کر کھڑے تھے…
اور دور… وہی عجیب سا سایہ اب دروازے کی شکل اختیار کر رہا تھا۔

دروازہ لکڑی کا نہیں تھا، پتھر کا بھی نہیں—
بلکہ سیاہ روشنی سے بنا ہوا تھا۔
ایسا لگتا تھا جیسے اندھیرے کو کاٹ کر کسی نے اسے جڑ دیا ہو۔

رفاہ نے سرگوشی کی:
"یہ واقعی دروازہ ہے… لیکن یہ بولتا کیوں نہیں؟"

ماہم نے کہا:
"خاموش دروازہ ہے نا، اسی لیے!"

علی دروازے کے پاس گیا۔
دروازے پر ایک چھوٹا سا گول نشان تھا—پوری طرح چپ… مگر ایسا لگتا تھا جیسے کسی کی دھڑکن سنائی دے رہی ہو۔

علی نے ہمت کر کے کہا:
"ہم آوازوں کی دنیا کو بچانے آئے ہیں۔ کیا تم ہمیں راستہ دو گے؟"

دروازہ خاموش رہا۔

رفاہ نے جھنجھلا کر کہا:
"یہ ہمیں سن بھی رہا ہے یا نہیں؟"

اچانک… دروازے کے مرکز سے روشنی کی ایک لہر نکلی۔
اس نے تینوں بچوں کو آہستہ آہستہ اوپر اٹھایا، جیسے کوئی ان کا وزن محسوس ہی نہ کر رہا ہو۔

پھر… دروازے کے اندر سے ایک بہت مدھم سرگوشی آئی:

"آوازوں کا محافظ کون ہے؟"

ماہم چونکی:
"یہ پوچھ رہا ہے کہ محافظ کون ہے!"

علی فوراً بولا:
"ہم تینوں!"

دروازہ پھر خاموش ہو گیا۔
پھر سرگوشی آئی:

"محافظوں میں سچ کون ہے؟"

بچوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
یہ سوال عجیب تھا… اور خطرناک بھی۔

رفاہ نے آہستہ کہا:
"سچ تو ہم تینوں میں ہے، ہم سب سچائی سے آئے ہیں۔"

دروازے نے گہری سانس لی… جیسے سوچ رہا ہو۔

پھر سرگوشی آئی—
اس بار آواز تھوڑی سخت تھی:

"محافظوں میں سب سے بے خوف کون ہے؟"

تینوں خاموش۔
یہ سوال سب سے مشکل تھا۔

ماہم نے علی کی طرف دیکھا اور ہنس کر کہا:
"ہم سب جانتے ہیں… علی!"

علی نے شرما کر کہا:
"ارے نہیں یار…"

لیکن دروازے کی روشنی اچانک تیز ہو گئی۔

گھوں---!

دروازہ کھل گیا۔
اندر سے ایک لمبا روشن راستہ نظر آیا، جیسے ستارے زمین پر بچھے ہوں۔

راستے کے درمیان ایک پتھر کی لوح تیر رہی تھی۔
اس پر کندہ تھا:

"آوازوں کی دنیا تمہاری منتظر ہے۔
مگر ہر آواز پاک نہیں ہوتی۔
احتیاط… کیونکہ جو آواز کھو جائے، وہ کبھی واپس نہیں آتی۔"

رفاہ نے نگل کر کہا:
"یہ مہم… ہماری سوچ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔"

علی نے راستے کی طرف دیکھا:
"جو بھی ہو، ہم جائیں گے۔"

تینوں اس روشن راستے پر قدم رکھتے ہیں—
اور جیسے ہی وہ اندر جاتے ہیں…

دروازہ پیچھے سے زور سے بند ہو جاتا ہے۔

گھپ اندھیرا۔
سناٹا۔
صرف ایک ہلکی سی گونج:

"خوش آمدید… آوازوں کی دنیا میں!"


AZHAR NIAZ

Previous Post Next Post