ماہم نے گہری سانس لی:
"اگر یہ سب رک گیا تو… دنیا جیسی رہ ہی نہیں جائے گی۔"
علی نے سفر پتھر مضبوطی سے پکڑ لیا:
"ہمیں اس کے ٹھکانے تک پہنچنا پڑے گا۔ وہ یہ سب کہاں سے کنٹرول کرتا ہے؟"
رفاہ نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔
آوازوں کی رنگین لہریں ایک خاص طرف جھک رہی تھیں، جیسے کسی جگہ کھینچی جا رہی ہوں۔
"ادھر!" اس نے انگلی سے اشارہ کیا۔
"آوازیں کھینچی جا رہی ہیں… جیسے کوئی بڑی طاقت انہیں چوس رہی ہو!"
تینوں اسی سمت بھاگے۔
جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے، فضا سرمئی ہوتی جا رہی تھی۔
ایک جگہ پہنچ کر راستہ ختم ہو گیا—
سامنے ایک بہت بڑا دائرہ بنا تھا، جو صرف سفید روشنی سے گھوم رہا تھا۔
ماہم نے حیرت سے کہا:
"یہ کیا ہے؟ کوئی جادوئی دروازہ؟"
علی نے دائرے کو غور سے دیکھا:
"یہ آوازوں کی بھول بھلیاں ہیں… دیکھو، اندر ہر طرف آوازوں کے راستے ہیں!"
دائرے کے اندر سے کبھی قہقہہ آتا، کبھی رونے کی چیخ، کبھی گھنٹی کی ٹن ٹن—
لیکن ہر آواز پھنسی ہوئی تھی، جیسے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہو۔
رفاہ نے ہمت کر کے قدم اندر رکھا—
اور پھر… غائب!
“رفاہ!” علی اور ماہم گھبرا کر اس کے پیچھے دوڑے۔
اندر داخل ہوتے ہی دنیا پوری طرح بدل گئی۔
راستے آوازوں سے بنے ہوئے تھے—
کچھ راستے ہنسی کے تھے، کچھ پھس پھس کی سرگوشی والے، اور کچھ ڈراؤنی چیخوں والے۔
رفاہ کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
ماہم نے پریشانی سے کہا:
"اگر ہم غلط راستے پر گئے تو… ہم بھی پھنس جائیں گے!"
علی نے آنکھیں بند کیں۔
"سفر پتھر… ہماری رہنمائی کرو۔"
پتھر نے ہلکی نیلی روشنی چھوڑنا شروع کی—
اور خود بخود ایک راستے کی طرف کھنچنے لگا۔
دھیمی، میٹھی موسیقی والا راستہ۔
تینوں اس راستے پر دوڑتے گئے۔
آوازیں کبھی اونچی ہوتیں، کبھی مدھم۔
پھر اچانک…
"بچاؤ! کوئی ہے؟"
یہ رفاہ کی آواز تھی— ٹوٹی ہوئی، جیسے دور سے آ رہی ہو۔
ماہم نے چیخ کر کہا:
"رفااااہ! ہم آرہے ہیں!"
وہ آواز کے پیچھے بھاگے۔
ایک بڑے کمرے جیسے علاقے میں پہنچ کر رک گئے۔
رفاہ ایک شیشے کے قفس میں پھنسا ہوا تھا۔
قفس آوازوں سے بنا تھا— لہریں بار بار اس کے اردگرد لپٹ کر اسے بے آواز کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
رفاہ کی آواز پھٹی ہوئی تھی:
"یہ آوازیں مجھے خاموش کر دیں گی! جلدی نکالو!"
علی نے سفر پتھر قفس کی طرف بڑھایا—
لیکن قفس نے پتھر کی روشنی کو اندر جانے نہیں دیا۔
ماہم نے کہا:
"یہ قید… عام جادو سے نہیں ٹوٹے گی۔
یہ اس جگہ کے اصولوں سے بنی ہے۔"
رفاہ نے زور سے کہا:
"آواز سے! اسے آواز سے توڑو!"
علی چونک گیا۔
"صحیح! اگر آوازوں سے ہی بنا ہے… تو کسی اور آواز کی طاقت اسے توڑ سکتی ہے!"
ماہم نے گہری سانس لی اور وہ lullaby—
وہ گیت جسے اس کی امی رات کو سُلاتے ہوئے گاتی تھیں—
آہستہ آہستہ گانا شروع کیا۔
نرم، پیاری، شفاف آواز…
قفس کے کنارے کپکپانے لگے۔
علی اور رفاہ حیران رہ گئے۔
علی نے فوراً اپنا حصہ ڈالا—
اس نے اپنا اسکول کا نغمہ اونچی آواز میں گا دیا۔
رفاہ نے بھی اندر سے ساتھ دیا—
ایک کمزور مگر سچی آواز۔
!ٹَھاک
قفس ٹوٹ گیا۔
رفاہ آزاد ہو کر دوڑ کر باہر آیا۔
"اوہ! بچ گئے!" وہ ہانپتے ہوئے بولا۔
مگر جیسے ہی وہ تینوں واپس بھاگنے لگے…
اوپر سے ایک بھاری آواز گونجی—
"بہت خوب… محافظو۔
تم بھول بھلیاں جیت گئے۔
مگر اصل جنگ ابھی باقی ہے!"
خاموش خان کی آواز۔
کہیں بہت قریب سے۔
تینوں بچوں کے چہرے سخت ہو گئے۔
علی نے سفر پتھر اٹھایا:
"ہم مقابلہ کریں گے۔
تمہاری خاموشی کو ہم کبھی جیتنے نہیں دیں گے!"
اور تینوں بھول بھلیاں کے اگلے حصّے کی طرف بڑھے—
جہاں اصل امتحان ان کا انتظار کر رہا تھا
