Translate


 علی اور اس کے دوست رفاہ جنگل میں کھڑے تھے، سامنے وہی سنہرا درخت تھا جو کبھی جادو سے جگمگاتا تھا۔ مگر آج… عجیب طور پر خاموش تھا۔

نہ روشنی… نہ آواز… بس خاموشی۔

علی نے حیرت سے کہا:
"یہ تو پہلے کبھی نہیں ہوا… درخت کی روشنی کیوں بند ہے؟"

رفاہ نے تھوڑا ڈرتے ہوئے آہستہ کہا:
"کہیں ایسا تو نہیں کہ… خطرہ قریب ہو؟"

اسی وقت زمین ہلکی سی کانپی۔
پتے ہلے۔
ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا… اور پھر اچانک… درخت کی چھال پر خودبخود ایک نشان ابھر آیا۔ جیسے کسی نے ابھی ابھی تراشا ہو۔

نشان میں ایک آنکھ بنی ہوئی تھی۔
کھلی ہوئی… سب کچھ دیکھتی ہوئی۔

ماہم نے فوراً پیچھے ہٹ کر کہا:
"یہ آنکھ ہمیں دیکھ رہی ہے! یہ تو ڈرا دینے والا ہے!"

علی آگے بڑھا اور انگلی سے چھوا…
چمک!
نشان سونے کی روشنی میں ڈوب گیا اور درخت کی جڑوں کے پاس مٹی ہٹنے لگی۔

نیچے سے ایک پتھر کی پلیٹ نکلی، اس پر کندہ تھا:

"خاموشی کے پیچھے وہ پناہ ہے جو آوازوں کو قید کر لیتی ہے۔
بچو، آوازوں کی دنیا بکھر رہی ہے۔
تمہیں اسے بچانا ہوگا!"

رفاہ پریشان ہو کر بولا:
"آوازوں کی دنیا؟ یہ کیا ہے؟"

ماہم نے پلیٹ اٹھائی اور پڑھتی رہی:
"تم تینوں کو جلد ہی اس دروازے کی تلاش کرنا ہوگی جو بول نہیں سکتا… مگر سن سب لیتا ہے۔
وہاں سے سفر شروع ہوگا۔"

علی نے سوچ میں پڑتے ہوئے کہا:
"دروازہ جو بول نہیں سکتا… مگر سنتا ہے؟
یہ تو پہیلی ہے!"

اچانک جنگل میں دور کہیں سے ایک ہلکی سی آواز آئی… جیسے کوئی آہ بھر رہا ہو۔
وہ لوگ چونک کر اس طرف دیکھنے لگے۔

"وہ آواز… ادھر سے آئی ہے!" علی نے کہا۔

آواز بڑھتی گئی…
پھر اچانک ایک پرندہ ان کے پاس گرا۔
نیلا، چمکتا ہوا پرندہ… مگر اس کی آواز جیسے… چھن کر کسی نے توڑ دی ہو۔
اس کی چونچ ہل رہی تھی، لیکن آواز نہیں نکل رہی تھی۔

ماہم چیخ پڑی:
"اوہ نہیں! اس کی آواز چھین لی گئی ہے!"

پرندے کے پروں پر لکھا تھا:

"خاموشی بڑھ رہی ہے… جلدی کرو!"

علی نے پرندے کو اٹھایا اور فیصلہ کن لہجے میں کہا:
"ہمیں اس ’خاموش دروازے‘ کو ڈھونڈنا ہوگا۔
یہ مہم اب پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"

تینوں بچوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور جنگل کی گہری طرف بڑھ گئے…
جہاں اندھیرے میں ایک دروازے کا سایہ ہل رہا تھا۔
خاموش… مگر جیسے ان کی ہر بات سن رہا ہو۔

اور یوں ان کی اگلی مہم شروع ہوئی —
آوازوں کی دنیا کو بچانے کے سفر کی پہلی سیڑھی۔


Azhar Niaz

Previous Post Next Post