لاکٹ اب پورے چار رنگوں کی روشنی سے دھڑک رہا تھا—نیلی، سبز، نارنجی اور وہ آخری سنہری چمک، جو دلِ ظلمت سے نکلی تھی۔
علی نے اسے سینے کے قریب رکھا تو اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی طاقت اس کے بدن میں آہستہ آہستہ پھیل رہی ہو۔ مگر یہ طاقت خوشگوار بھی تھی اور بھاری بھی۔ جیسے کسی نے اسے روشنی کی ذمہ داری دے دی ہو۔
نیلا جگنو اب بھی کمزور تھا، مگر اس کی روشنی پہلے سے ہلکی مضبوط محسوس ہو رہی تھی۔
علی نے اسے ہاتھ میں اٹھایا،
"ٹھیک ہو جاؤ… ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔"
جنگل اب پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔
درختوں کی شاخیں نیچے جھکی ہوئی تھیں، گھاس جل چکی تھی، اور کہیں دور سے ایک بھاری آواز مسلسل گونج رہی تھی—جیسے کوئی عظیم مخلوق جاگ گئی ہو۔
علی جانتا تھا:
یہ سایا نہیں… اس کا ٹوٹا ہوا حصہ ہے، جو آخری کوشش کرے گا کہ محافظ واپس نہ آئے۔
نیلا جگنو آہستہ سے فضا میں اٹھا اور ایک سمت کو اشارہ کیا۔
علی نے اس روشنی کے پیچھے چلنا شروع کیا۔
کچھ دیر بعد وہ جنگل کے سب سے پرانے درخت کے سامنے پہنچ گیا—ایک دیوہیکل درخت، جسے لوگ "وقت کا ستون" کہتے تھے۔
اس کے تنے پر نشان بنے ہوئے تھے۔ چار خالی جگہیں… جیسے کوئی چار چیزیں دوبارہ یہاں لگانے کا انتظار کر رہی ہوں۔
پھر اچانک… زمین ہلنے لگی۔
دھند، چیخیں، ٹوٹی ٹہنیوں کی آوازیں—سب مل کر ایک خوفناک شور پیدا کرنے لگیں۔
اندھیرا ایک بڑے بادل کی شکل میں سامنے آیا… اور اس کے اندر سے وہی پہاڑ جتنی بڑی سرخ آنکھ ظاہر ہوئی۔
یہ سائے کا آخری، سب سے خطرناک حصہ تھا—
اندھیرے کی جڑ۔
علی نےلاکٹ مضبوطی سے تھاما۔
اسے یاد آیا کہ محافظ نے کہا تھا:
"مجھے روشنی کے ذریعے ہی واپس لایا جا سکتا ہے۔"
نیلا جگنو تیزی سے علی کے گرد گھومنے لگا۔
کتنی ہی دیر میں لاکٹ کی روشنی سیدھی آسمان کی طرف پھٹ پڑی۔
اندھیرا غصے سے گرجا:
"تم اسے واپس نہیں لا سکتے!
وہ میرا حصہ تھا… میرا!"
علی نے قدم پیچھے ہٹانے کے بجائے آگے بڑھایا۔
"وہ تمہارا نہیں۔ وہ روشنی کا محافظ تھا۔ تم صرف اس کا ٹوٹا ہوا سایہ ہو!"
اندھیرا غضبناک ہو کر علی پر ٹوٹ پڑا۔
جیسے ایک خوفناک دھوئیں کا طوفان۔
مگر جیسے ہی اندھیرا علی کے قریب پہنچا، لاکٹ سے ایک چمکتی ہوئی ڈھال سی نکلی۔
اندھیرا اس سے ٹکرا کر پیچھے ہٹ گیا—غصے میں بپھرا ہوا مگر بے بس۔
اب وقت آ چکا تھا۔
علی نے لاکٹ کو درخت کے بیچ والی جگہ پر رکھ دیا۔
چاروں رنگ درخت کی شاخوں میں دوڑنے لگے۔
جیسے درخت خود روشنی پیتا جا رہا ہو۔
درخت کی چھال چمکنے لگی۔
اچانک تنے سے ایک دھڑکن سنائی دی۔
پھر ایک اور…
پھر ایک اور…
زمین لرزنے لگی۔
دھند پیچھے ہٹنے لگی۔
ساری فضا میں روشنی پھیل گئی۔
درخت میں سے ایک انسانی نما شبیہ باہر آ رہی تھی—
لمبا قد، روشنی سے چمکتا جسم، اور آنکھوں میں سکون۔
محافظ… واپس آ رہا تھا۔
اندھیرا حالتِ جنون میں چیخا:
"نہہہہہہ!
وہ واپس نہیں آ سکتا!"
وہ سیدھا محافظ کی طرف لپکا۔
علی نے فوراً نیلے جگنو کا ہاتھ تھاما—یا یوں کہہ لیں کہ جگنو نے اس کی ہتھیلی چھوئی—اور دونوں نے مل کر لٹکن کی آخری روشنی کو جگایا۔
ایک شدید، چمکتی ہوئی سفید روشنی پھٹی—
جس نے اندھیرے کے طوفان کو چیر کر رکھ دیا۔
اندھیرا چیختا ہوا ٹوٹنے لگا…
بکھرنے لگا…
اور آخرکار دھوئیں میں تبدیل ہو کر آسمان میں غائب ہو گیا۔
خاموشی پھیل گئی۔
محافظ نے آنکھیں کھولیں…
اور پہلی بار علی کو دیکھا۔
اس کی آواز گہری تھی مگر نرم:
"تم نے مجھے واپس لا دیا… چھوٹے محافظ۔
جنگل تمہارا قرض دار رہے گا۔"
نیلا جگنو علی کے کندھے پر جا بیٹھا—اب پہلے سے کہیں زیادہ روشن۔
علی نے سر اٹھایا،
"ایک کام باقی ہے نا؟"
محافظ نے مسکرا کر کہا:
"ہاں…
روشنی واپس پھیلانی ہے۔
اور یہ… ایپی سوڈ 8 میں ہو گا۔"
