Translate


 

علی پچھلے دو حصے حاصل کرنے کے بعد اب زیادہ سمجھدار اور محتاط ہو گیا تھا۔ مگر دل میں ایک خوف بھی بیٹھ گیا تھا… اگر ہر حصہ لینے پر سایہ سامنے آ جاتا ہے تو اگلی بار کیا ہوگا؟

صبح ہوتے ہی نیلا جگنو کھڑکی سے اندر آیا اور تیزی سے چمکنے لگا۔
علی نے فوراً سمجھ لیا:
وقت آگیا ہے۔

اس نے لٹکن گلے میں ڈالا، جو اب نیلی اور سبز روشنی سے ہلکا ہلکا دھڑک رہا تھا، اور گھر سے باہر نکل آیا۔

جنگل میں داخل ہوتے ہی ایک عجیب سی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی—گیلی لکڑی، جڑی بوٹیوں اور رات کی تازہ ہوا کی ملتی جُلتی مہک۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے جنگل آج خود اسے بلا رہا ہو۔

جگنو اسے ایک نئی سمت لے جا رہا تھا… جنگل کے اُس حصے میں جس میں کبھی کوئی نہ جاتا تھا۔ یہ جگہ خاموش گھاٹی کہلاتی تھی، جہاں ہوا بھی آہستہ چلتی تھی۔

چند قدم بعد علی نے دیکھا کہ گھاٹی کے بیچوں بیچ ایک پتھر کا دائرہ بنا ہوا تھا—بے حد قدیم۔ اس کے اردگرد لمبے درخت جھکے ہوئے تھے، جیسے اس جگہ کی حفاظت کر رہے ہوں۔

دائرے کے بیچ میں ایک چھوٹا سا کنواں تھا۔

کنویں سے ہلکی سنہری دھند اٹھ رہی تھی۔

علی نے سوال کیا،
"یہاں کیا ہے؟ روشنی کا اگلا حصہ؟"

نیلا جگنو کنویں کے اوپر منڈلانے لگا—ہاں کا اشارہ۔

علی نے جھانک کر نیچے دیکھا۔ کنواں اندھیرا تھا، مگر بہت نیچے… کہیں بہت نیچے… اسے ایک ہلکی سی نارنجی چمک نظر آئی۔

وہ کھینچ کر پیچھے ہوا،
"میں اندر کیسے جاؤں؟"

پھر اچانک کنویں کی دھند گھومنے لگی اور ایک ایسی آواز گونجی جو نہ مرد کی لگتی تھی نہ عورت کی—بلکہ جیسے ہوا خود بول رہی ہو۔

"روشنی اُنہیں ملتی ہے… جو اپنے اندھیروں کو پہچانتے ہیں۔"

علی چونک کر پیچھے ہٹا۔
"کون ہے؟ کون بول رہا ہے؟"

آواز دوبارہ آئی:

"میں وہ ہوں… جو کبھی محافظ تھا۔
میں وہ ہوں… جسے روشنی نے چھوڑ دیا۔
اور میں… وہی ہوں جسے اب تم سایہ کہتے ہو۔"

علی کا دل ایک لمحے کے لیے رک گیا۔

"تو تم ہی سایا ہو؟
مگر تم محافظ کیوں تھے؟ تم ایسے کیوں بن گئے؟"

دھند نے آہستہ آہستہ ایک شکل بنانا شروع کی—لمبی، دھندلی، لیکن اس بار اتنی خوفناک نہیں۔ اس کی آنکھیں چمک نہیں رہی تھیں، بلکہ بجھی ہوئی لگ رہی تھیں۔

سایہ بولا:

"جب روشنی ٹکڑوں میں بٹ گئی،
میں بھی بکھر گیا۔
میری طاقت، میرا مقصد… سب ٹوٹ گیا۔
اور اب… میں اندھیرا بن چکا ہوں۔"

علی کا دل بھر آیا۔
"تو تم برا نہیں تھے؟"

سایہ رکا، جیسے سوچ رہا ہو۔

"برا… وہ ہوتا ہے جو اندھیرے کو پسند کرے۔
میں تو بس… بچ نہیں سکا۔"

علی نے پہلی بار سائے میں ایک خوفناک مخلوق نہیں دیکھی—بلکہ ایک کھوئی ہوئی روح دیکھی۔

جگنو علی کے کندھے پر آ بیٹھا، جیسے حوصلہ دے رہا ہو۔

علی نے کہا،
"اگر میں روشنی کے حصے جمع کرلوں… کیا تم واپس محافظ بن سکتے ہو؟"

سائے نے دھیرے سے سر جھکا دیا۔

"شاید…
مگر اگلا حصہ آسان نہیں۔
وہ اس کنویں کے نیچے ہے…
اور وہاں… میرے ٹکڑوں میں سے سب سے خطرناک حصہ چھپا ہوا ہے۔"

علی نے نگلتے ہوئے پوچھا،
"وہ… کیا کرے گا؟"

آواز ٹوٹی ہوئی سی تھی:

"وہ تم سے لڑے گا…
کیونکہ وہ مجھے واپس نہیں آنا چاہتا۔"

یہ سن کر علی کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔
اب اسے صرف روشنی نہیں لینی تھی…
بلکہ سائے کے اندر چھُپے سب سے خطرناک اندھیرے کا سامنا بھی کرنا تھا۔

جگنو نے ہلکی سی روشنی دی، جیسے کہہ رہا ہو:

"تم کر سکتے ہو۔"

علی نے گہرا سانس لے کر کنویں کے اندر چھلانگ لگادی۔
اور یوں… تیسری آزمائش شروع ہو گئی۔


Previous Post Next Post