علی پچھلے دو حصے حاصل کرنے کے بعد اب زیادہ سمجھدار اور محتاط ہو گیا تھا۔ مگر دل میں ایک خوف بھی بیٹھ گیا تھا… اگر ہر حصہ لینے پر سایہ سامنے آ جاتا ہے تو اگلی بار کیا ہوگا؟
اس نے لٹکن گلے میں ڈالا، جو اب نیلی اور سبز روشنی سے ہلکا ہلکا دھڑک رہا تھا، اور گھر سے باہر نکل آیا۔
جنگل میں داخل ہوتے ہی ایک عجیب سی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی—گیلی لکڑی، جڑی بوٹیوں اور رات کی تازہ ہوا کی ملتی جُلتی مہک۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے جنگل آج خود اسے بلا رہا ہو۔
جگنو اسے ایک نئی سمت لے جا رہا تھا… جنگل کے اُس حصے میں جس میں کبھی کوئی نہ جاتا تھا۔ یہ جگہ خاموش گھاٹی کہلاتی تھی، جہاں ہوا بھی آہستہ چلتی تھی۔
چند قدم بعد علی نے دیکھا کہ گھاٹی کے بیچوں بیچ ایک پتھر کا دائرہ بنا ہوا تھا—بے حد قدیم۔ اس کے اردگرد لمبے درخت جھکے ہوئے تھے، جیسے اس جگہ کی حفاظت کر رہے ہوں۔
دائرے کے بیچ میں ایک چھوٹا سا کنواں تھا۔
کنویں سے ہلکی سنہری دھند اٹھ رہی تھی۔
نیلا جگنو کنویں کے اوپر منڈلانے لگا—ہاں کا اشارہ۔
علی نے جھانک کر نیچے دیکھا۔ کنواں اندھیرا تھا، مگر بہت نیچے… کہیں بہت نیچے… اسے ایک ہلکی سی نارنجی چمک نظر آئی۔
پھر اچانک کنویں کی دھند گھومنے لگی اور ایک ایسی آواز گونجی جو نہ مرد کی لگتی تھی نہ عورت کی—بلکہ جیسے ہوا خود بول رہی ہو۔
"روشنی اُنہیں ملتی ہے… جو اپنے اندھیروں کو پہچانتے ہیں۔"
آواز دوبارہ آئی:
علی کا دل ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
دھند نے آہستہ آہستہ ایک شکل بنانا شروع کی—لمبی، دھندلی، لیکن اس بار اتنی خوفناک نہیں۔ اس کی آنکھیں چمک نہیں رہی تھیں، بلکہ بجھی ہوئی لگ رہی تھیں۔
سایہ بولا:
سایہ رکا، جیسے سوچ رہا ہو۔
علی نے پہلی بار سائے میں ایک خوفناک مخلوق نہیں دیکھی—بلکہ ایک کھوئی ہوئی روح دیکھی۔
جگنو علی کے کندھے پر آ بیٹھا، جیسے حوصلہ دے رہا ہو۔
سائے نے دھیرے سے سر جھکا دیا۔
آواز ٹوٹی ہوئی سی تھی:
جگنو نے ہلکی سی روشنی دی، جیسے کہہ رہا ہو:
"تم کر سکتے ہو۔"
