Translate

اس بار کہانی اپنی سب سے زیادہ خطرناک موڑ پر جا رہی ہے،
 جہاں علی کو اندھیرے کے اس حصے سے سامنا ہوگا جو خود سائے کے قابو میں بھی نہیں۔

کنویں میں جاتے ہوئے علی نے پہلے کبھی ایسا خوف محسوس نہیں کیا تھا۔ نیلا جگنو اس کے ساتھ تیرتا ہوا نیچے اتر رہا تھا، مگر جوں جوں وہ گہرائی میں جاتے، ہوا زیادہ ٹھنڈی اور نمی زیادہ بھاری ہو رہی تھی۔

آخرکار دونوں کنویں کی تہہ تک پہنچ گئے۔

نیچے ایک چھوٹی سی غار تھی۔ اس کی دیواروں پر عجیب سیاہ پودے اگے ہوئے تھے، جن کی جڑوں سے دھواں سا نکلتا تھا۔ غار کے بیچوں بیچ ایک بڑا پتھر رکھا تھا، جس کے اوپر نارنجی روشنی کا ایک ٹکڑا چمک رہا تھا—روشنی کا تیسرا حصہ۔

علی نے قدم آگے بڑھایا—
اور اسی لمحے ساری غار میں گونجتی ہوئی ایک تیز چیخ سنائی دی۔

دیواروں سے دھواں تیزی سے اکٹھا ہوا… اور پھر…

ایک نئی مخلوق وجود میں آئی۔

یہ سایہ نہ تھا۔
یہ اس کا وحشی حصہ تھا—سائے کا ٹوٹا ہوا، اندھیرا، غصے سے بھرا ٹکڑا۔

اس کی آنکھیں سرخ تھیں، چہرہ بے شکل، اور بازو دھوئیں کے بنے ہوئے مگر بڑے بڑے نوکدار پنجوں میں بدلتے جا رہے تھے۔

علی نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا،
"میں لڑنے نہیں آیا… مجھے صرف روشنی چاہیے!"

اندھیری مخلوق غُرا کر آگے بڑھی۔

نیلا جگنو فوراً پوری طاقت سے چمکا، لیکن اس بار کچھ نہیں ہوا۔ مخلوق روشنی سے نہیں ڈر رہی تھی۔

بلکہ… وہ جگنو کی روشنی کو جذب کر رہی تھی۔

علی کا دل دھک سے رہ گیا۔

مخلوق نے ایک زور دار حملہ کیا۔ علی نے جھک کر بچنے کی کوشش کی مگر اس کے بازو پر دھوئیں کی تیز لہر لگی۔ لہر ٹھنڈی تھی… لیکن اتنی کہ ہڈیاں تک جم گئیں۔

علی گر پڑا۔

جگنو نے گھبرا کر علی کا چکر کاٹا، جیسے اسے ہمت دے رہا ہو۔

علی نے خود کو سنبھالا اور یاد آیا:
روشنی کے پہلے دو حصے اس کے لٹکن میں ہیں۔

اس نے لٹکن کو زور سے تھاما۔ اچانک نیلی اور سبز روشنی اس کے اردگرد پھیل گئی۔

اندھیری مخلوق رک گئی—پہلی بار۔

علی نے موقع دیکھا اور پتھر کی طرف دوڑا۔ مخلوق نے غصے سے چیخ ماری اور اس کی طرف لپکی۔

علی نے آخری لمحے میں ہاتھ بڑھا کر نارنجی حصہ پکڑ لیا۔

پکڑتے ہی اُس میں بجلی سی دوڑ گئی—
اور مخلوق ایک عجیب دردناک چیخ کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی۔

نارنجی روشنی، نیلی اور سبز روشنی کے ساتھ مل کر ایک گھومتا ہوا دائرہ بن گئی۔

کنویں کے اندر روشنی کے گرد دھند کا طوفان سا اٹھ گیا۔

مخلوق اب تڑپ رہی تھی، جیسے کسی چیز سے بندھی جا رہی ہو۔

اسی لمحے علی نے سائے کی مدھم، کانپتی ہوئی آواز سنی:

"علی…!
اسے روک لو…
ورنہ میں کبھی واپس نہیں آ سکوں گا!"

علی نے پوری ہمت جمع کی اور اپنے لٹکن کو سینے پر مضبوطی سے تھاما۔

پورا کنواں روشنی سے پھٹ پڑا۔

نیلا جگنو آسمان کی طرف چمکا… نارنجی، نیلی اور سبز روشنی ایک ہوگئی… اور مخلوق چیختی ہوئی دھوئیں میں تحلیل ہو گئی۔

غار پھر سے خاموش ہوگئی۔

علی ہانپ رہا تھا، ہاتھ کانپ رہے تھے… مگر لٹکن اب تین رنگوں سے جگمگا رہا تھا۔
یہ تیسرا حصہ بھی مل چکا تھا۔

نیلا جگنو اس کے کندھے پر آ بیٹھا—کمزور مگر مطمئن۔

علی نے گہری سانس لی۔
"ایک حصہ باقی ہے… پھر شاید سب ٹھیک ہو جائے۔"

مگر اس لمحے کنویں کی دیوار پر ایک نیا نقش ابھرا:

"آخری روشنی…
اندھیرے کے دل میں چھپی ہے۔
جہاں نہ روشنی جاتی ہے…
نہ امید۔"

علی نے خوف سے ایک لفظ کہا:

"اندھیرے کا دل…؟"

جگنو نے ہلکی روشنی دی—
یہی سفر کا سب سے مشکل مرحلہ تھا۔



Previous Post Next Post