علی ساری رات سو نہ سکا۔ نیلا جگنو اُس کے بستر کے پاس ٹمٹماتا رہا، اور چاندی کا لٹکن علی کے ہاتھ میں دبا ہوا تھا۔ جب بھی وہ لٹکن کو دیکھتا، اسے تالاب، سایہ اور وہ سنہری تحریر یاد آجاتی۔
نیلے جگنو کی روشنی ہلکی ہلکی تیز ہوئی—جیسے وہ علی کی سوچوں کا جواب دے رہا ہو۔ پھر وہ اچانک کھڑکی سے باہر کی طرف اُڑ گیا۔
علی نے جلدی سے جیکٹ پہنی، لٹکن گلے میں ڈالا اور اس کے پیچھے بھاگ نکلا۔
جنگل آج عجیب سا لگ رہا تھا—خاموش، لیکن کسی بھاری چیز کی موجودگی واضح تھی۔ جیسے درخت بھی سانس روک کر کھڑے ہوں۔
چند منٹ بعد جگنو ایک ایسے مقام پر رکا جہاں علی پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ سامنے ایک بہت پرانا پتھر کا محرابی دروازہ تھا—آدھا زمین میں دَبا ہوا، اور اوپر بیلیں لپٹی ہوئی تھیں۔ اس دروازے پر تین دائرے بنے تھے، جن میں سے ایک دائرہ لامکمل تھا۔
علی نے چونک کر لٹکن کو دیکھا—اس کی شکل بھی بالکل دائرے کے ایک حصے جیسی ہی تھی۔
"کیا یہ… یہاں لگے گا؟"
علی نے لٹکن دیوار کے خالی حصے پر رکھا۔ جیسے ہی اس نے اسے چھوا، پتھر کا محراب لرزنے لگا، اور دھیرے دھیرے دروازہ کھل کر اندر کا راستہ دکھانے لگا۔
اندر اندھیرا تھا—لیکن جیسے ہی نیلا جگنو داخل ہوا، دیواریں ہلکی نیلی روشنی سے جگمگا اٹھیں۔ علی نے حیرت سے دیکھا کہ دیواروں پر پراسرار نشانات بنے تھے—تالاب، سایہ، جنگل، اور ایک بہت بڑا جانور… جس کے سر سے نیلی روشنی نکل رہی تھی۔
"یہ جانور کون ہے؟" علی نے آہستہ کہا۔
کے نیچے کندہ الفاظ ظہور پذیر ہوئے:
دیوار نے جواب نہ دیا… لیکن اگلا لمحہ خود جواب بن کر آگیا۔
راستے کے آخری سرے پر ایک پتھر کا ستون تھا۔ اس کے اوپر ایک چھوٹی شیشی رکھی تھی—جس کے اندر سبز رنگ کا دھندلا ہوا قطرہ تیر رہا تھا۔ جیسے روشنی کا دوسرا حصہ۔
نیلا جگنو فوراً علی کے سامنے آگیا، اس کی روشنی پوری طاقت سے چمکی—لیکن سایہ پیچھے نہ ہٹا۔
بلکہ دھیرے دھیرے منہ کھول کر عجیب سی غُراہٹ نکالی۔
نیلا جگنو نے اچانک تیزی سے حرکت کی اور علی کے چہرے کے سامنے چمکا—جیسے کہہ رہا ہو:
“ہمت کرو!”
پتھر کا کمرہ زوردار روشنی سے بھر گیا۔ سایہ چیخ کر پیچھے ہوا… مگر اس بار وہ غائب نہیں ہوا۔
وہ صرف علی کو گھورتا رہا۔
اور پھر وہ دھند میں غائب ہوگیا۔
اصل خطرہ ابھی آیا ہی نہیں۔
