علی اُس رات دیر تک سو نہ سکا۔ نیلا جگنو اُس کے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھا کبھی ہلکی اور کبھی تیز روشنی دیتا، جیسے کسی بات کا انتظار کر رہا ہو۔ علی اُٹھ کر بیٹھ گیا۔

"کیا بات ہے؟ کوئی مسئلہ ہے؟"
جگنو نے اچانک کھڑکی کے باہر کی طرف اشارہ جیسی حرکت کی۔

علی کھڑکی کے پاس آیا تو اس نے دور، جنگل کی سمت، ایک لمحے کے لیے وہی کالا سایہ دیکھا… وہی جو گزشتہ دن غائب ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں پھر سے چمکیں اور وہ درختوں کے پیچھے چھپ گیا۔

علی کا دل گھبرا گیا۔
"یہ واپس کیوں آیا ہے؟"

جگنو تیزی سے چمکا، جیسے کہہ رہا ہو: چلو!
علی نے ہلکی سی جیکٹ پہنی اور آہستہ سے گھر کا دروازہ کھولا۔ نیم رات کی خاموشی میں صرف جھینگر کی آوازیں تھیں۔ جگنو آگے آگے اُڑ رہا تھا۔

جنگل میں داخل ہوتے ہی ہوا سرد ہوگئی۔ درختوں کے سائے لمبے اور عجیب ہو رہے تھے۔ علی نے آہستہ آواز میں کہا،
"کیا وہ سایہ ہمیں دیکھ رہا ہے؟"

اچانک نیلا جگنو رک گیا… پھر زمین کے قریب اُڑ کر ایک جگہ چکر لگانے لگا۔ علی جھکا تو دیکھا کہ وہاں زمین ہلکی سی جلی ہوئی ہے—جیسے کسی نے آگ سے کوئی نشان بنایا ہو۔

نشان ایک پنجے جیسا تھا۔
بڑا… اور تیز نوکدار۔

علی کے پیٹ میں گھبراہٹ سی ہونے لگی۔
"یہ کیا ہے؟ کوئی جانور؟ یا… کچھ اور؟"

جگنو نے پھر روشنی تیز کی اور آگے بڑھ گیا۔ کچھ دور چلنے کے بعد ایک چھوٹا سا تالاب آیا۔ اس کا پانی نیلا چمک رہا تھا، جیسے ستارے پانی کی تہہ میں گرے ہوں۔ علی نے تالاب کے پاس لکڑی پر ایک عجیب سی پٹی دیکھی۔ اس پر الفاظ کندہ تھے:

"سایوں کو روشنی پسند نہیں۔
مگر روشنی کو آزمائش پسند ہے۔"

علی نے پٹی کو پڑھا ہی تھا کہ اچانک پیچھے سے خش خش کی آواز آئی۔
وہ کالا سایہ… پھر واپس آچکا تھا۔

اس بار وہ پہلے سے زیادہ واضح تھا—لمبا، بھاری جسم، لمبے بازو، چمکتی آنکھیں، اور قدموں کے ساتھ ہلکی دھند جیسی گردش۔ علی کے قدم ٹھنڈے پڑ گئے۔

سایہ آہستہ آہستہ علی کی طرف بڑھنے لگا۔

نیلا جگنو اچانک پوری طاقت سے روشن ہوا، مگر اس بار سایہ پیچھے نہیں ہٹا۔
بلکہ… وہ روشنی کے اندر آنے لگا!

علی نے حیرت سے دیکھا،
"یہ تو اس سے ڈر نہیں رہا! پھر اسے کیا چاہیے؟"

سایہ ایک قدم اور آگے بڑھا۔ علی نے خوف سے آنکھیں بند کرلیں۔

چٹاخ!

جیسے کوئی لکڑی ٹوٹی ہو۔ علی نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ تالاب کا پانی اچانک بھنور بنانے لگا تھا۔ بھنور میں سے ایک سنہری روشنی اوپر آئی—اور اسی روشنی سے ایک چھوٹا سا چاندی کا لٹکن باہر نکلا۔

نیلے جگنو نے اشارہ کیا کہ علی اسے اُٹھائے۔

علی نے ہمت کرکے لٹکن پکڑا۔ جیسے ہی اس نے اسے مٹھی میں بند کیا، ایک گرم سی لہر اس کے بازو میں دوڑی… اور پھر اچانک نیلے جگنو کی روشنی دس گنا بڑھ گئی!

سایہ زور سے پیچھے ہٹا، پھر درختوں میں گم ہو گیا۔

علی ہانپ رہا تھا۔
"یہ لٹکن… کیا ہے؟"

جگنو نے آہستہ سے اس لٹکن کو چھوا۔
اس لمحے لٹکن پر ہلکی تحریر ظاہر ہوئی:

"یہ روشنی کا پہلا حصہ ہے۔
سایہ جسے ڈھونڈ رہا ہے۔
اپنے محافظ پر بھروسہ کرو،
کیونکہ اصل جنگ ابھی شروع ہوئی ہے۔"

علی نے لٹکن سینے سے لگا لیا۔
اب اسے سمجھ آگئی تھی:

جنگل کے راز اُس کی سوچ سے کہیں زیادہ بڑے تھے۔
اور سایہ… بس ایک شروعات تھی۔


Previous Post Next Post