علی ایک شرارتی مگر بہادر سا لڑکا تھا۔ ایک دن اسکول سے واپس آتے ہوئے اسے جنگل کے کنارے ایک عجیب سی نیلی روشنی ٹمٹماتی ہوئی نظر آئی۔ وہ رکا، آنکھیں ملیں، مگر روشنی غائب نہ ہوئی۔ علی آہستہ آہستہ اس طرف بڑھا۔ اچانک وہ روشنی اُڑتی ہوئی اس کے سامنے آگئی۔ وہ کوئی عام جگنو نہیں تھا—وہ پورا نیلا چمک رہا تھا!

جگنو نے ہوا میں چھوٹے چھوٹے دائرے بنائے اور پھر تیزی سے جنگل کے اندر کی طرف اُڑ گیا، جیسے اسے علی کو اپنے پیچھے آنے کی دعوت دے رہا ہو۔ علی تھوڑی دیر ہچکچایا، پھر تجسس جیت گیا۔ وہ اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔

جنگل میں داخل ہوتے ہی خاموشی چھا گئی۔ عجیب سی ٹھنڈی ہوا چلتی تھی اور درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ میں جیسے کوئی سرگوشیاں چھپی ہوں۔ نیلا جگنو کبھی اُوپر جاتا، کبھی نیچے، جیسے کہ اسے کسی خاص جگہ لے کر جانا چاہتا ہو۔

کچھ دیر چلنے کے بعد اچانک جگنو رُک گیا۔ اس کے سامنے زمین میں ایک قدیم لکڑی کا ڈبہ پڑا تھا، جس پر پھیکا سا سنہری نقش بنا ہوا تھا۔ علی کا دل زور سے دھڑکا۔ اُس نے چاروں طرف دیکھا—کوئی نہیں تھا۔ پھر اس نے تھوک نگلا، اور آہستہ سے ڈبے کا ڈھکن اُٹھایا۔

جیسے ہی ڈھکن کھلا، ڈبے سے ہلکی سی سنہری روشنی نکلی۔ اندر ایک چابی تھی—پراسرار، موٹی، اور عجیب خم والی۔ علی نے اسے اٹھایا تو جگنو خوشی سے تیزی سے چمکنے لگا۔ جیسے کہ یہ صحیح چیز مل گئی ہو۔

علی نے فوراً پوچھا،
"یہ چابی کس کی ہے؟"
مگر ظاہر ہے، جگنو جواب نہیں دیتا تھا۔ وہ بس آگے کی طرف اُڑ گیا، جیسے اگلا مرحلہ شروع ہو۔

چند قدم آگے ہی ایک پرانا سا درخت تھا، جس کے تنے میں عجیب ہتھیلی جتنا گول سوراخ بنا ہوا تھا۔ سوراخ کی شکل بلکل اسی چابی جیسی تھی۔

علی کا دل دھڑکنے لگا۔ اس نے چابی سوراخ میں لگائی۔ جیسے ہی وہ گھمائی، درخت کے نیچے کی زمین ہلکی سی لرزنے لگی اور ایک چھوٹا سا خفیہ دروازہ کھل گیا۔ اندر اندھیرا تھا لیکن جگنو آگے اُڑ کر راستہ روشن کرنے لگا۔

نیچے اتر کر علی نے دیکھا کہ یہ ایک چھوٹا سا زیرِ زمین کمرہ ہے۔ پتھروں کی دیواروں پر پرانی تصویریں بنی تھیں جن میں لوگ ہاتھ میں نیلے جگنو پکڑے مسکرا رہے تھے۔ کمرے کے بیچ میں ایک پتھر کی میز رکھی تھی اور اُس پر لکھی ہوئی ایک تختی پڑی تھی:

"جو بچہ بہادر ہو، اور دل میں روشنی رکھتا ہو،
نیلا جگنو اس کا محافظ بن جاتا ہے۔"

علی یہ پڑھ کر حیران رہ گیا۔
"محافظ؟ میرا؟"

اسی لمحے جگنو اس کے سامنے آکر چمکنے لگا۔ پھر آہستہ سے اس کے کندھے پر بیٹھ گیا۔ علی کو یوں لگا جیسے اس کے اندر ایک ہلکی سی گرم روشنی بھر گئی ہو—جیسے کوئی کہہ رہا ہو کہ اب وہ اکیلا نہیں۔

پھر اچانک باہر سے زور کی آواز آئی—جیسے کوئی درخت گرا ہو۔ علی چونک کر کمرے سے باہر نکلا۔ جنگل میں بڑا کالا سا سایہ دوڑتا پھر رہا تھا، جیسے علی کو ڈھونڈ رہا ہو۔ علی کے گھٹنے کانپنے لگے، مگر نیلا جگنو اچانک اس کے سامنے آکر تیزی سے چمکا۔ اس کی روشنی اتنی تیز تھی کہ سارا جنگل جگمگا اٹھا۔

وہ کالا سایہ روشنی سے ڈر کر پیچھے ہٹا، پھر اچانک دھند کی طرح غائب ہوگیا۔

علی حیران رہ گیا۔
"تو یہ… مجھے بچاتا ہے؟"

جگنو نے جیسے ہاں میں سر ہلایا اور نرمی سے اس کے ہاتھ پر بیٹھ گیا۔

اب علی سمجھ گیا تھا کہ اسے یہ راز اپنے دل میں رکھنا ہوگا۔ وہ چابی اپنی جیب میں رکھی، جگنو کو کندھے پر بٹھایا اور گھر کی طرف لوٹنے لگا۔

جنگل کی خاموشی اب اسے ڈراؤنی نہ لگتی تھی—کیونکہ اب علی کے پاس تھا نیلا محافظ۔

اور یہ صرف شروعات تھی… کیونکہ رازدار جنگل میں ابھی بہت سے راز اس کے انتظار میں تھے۔


Previous Post Next Post